لوآگئےمیداں میں وفادار صحابہؓ
لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
عزت کا ہے حقدار وفادارِ صحابہ
ذلّت کا سزاوار ہے غدّارِ صحابہ
صدّیق کی توہین بھلا کیسے سنیں ہم!
صدّیق تو ہے بےشک سردارِ صحابہ
باطل کے سر کو تن سے جُدا کر کے رکھ دیا
مشہور ہے جہان میں تلوارِ صحابہ
اندھے دِلوں کو جس نے دی ایمان کی چمک
بےمثل و لاجواب تھی گفتارِ صحابہ
سیرت ہے اِن کی سیرتِ سرکارِ دوعالم
اللہ کو پسند ہے کردارِ صحابہ
کرتے ہیں ناز اُس پہ خدا کے ملائکہ
حاصل ہے جس بشر کو بھی دیدارِ صحابہ
اُن کے لئے تو الفتِ ابلیس بہت ہے
ہم تو بنے ہوئے ہیں طلبگارِ صحابہ
اصحابی کالنجوم کا مثردہ انہیں ملا
کیسے بتاؤں آپ کو معیارِ صحابہ
اللہ کو ہے پیار صحابہ کے عمل سے
دیکھو تو ذرا منکرو! وقارِ صحابہ
میرے معاویہ پہ نہ شک و ستم کرو
بےشک معاویہ ہے وفادارِ صحابہ
عاصم پڑھے گا جھوم کے نغمے سلام کے
جبکہ لگے گا حشر میں دربارِ صحابہ
✍️ عاصم صاحب
Comments
Post a Comment