علی ‏معاویہ ‏بھائی ‏بھائی ‏

                      شـاہـکار کـلام  

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻗﺮﺑﺎﮞ ﮐﺮ ﮔﺌﮯ
ﺩﺷﻤﻦ ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮧ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻃﻮﻓﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﮯ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺗﮭﺎ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﯾﺎﺭؓ ﺷﺎﮦ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﮯ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺻﻠﯽ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ، ﻧﮧ ﮨﺮﮔﺰ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﺍ
ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮ ﮞ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺭﮔﮍﺍ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﯾﺎﺭ ﺑﺎﻭﻗﺎﺭ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ
ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﭘﮧ ﻗﮩﺮ ﺍﻟﮩﯽ ﺗﮭﮯ

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺒﺎﺋﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻐﺎﻭﺕ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ
ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﻗﺘﺎﻝ ﺗﮭﯽ
ﻭﺭﻧﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺧﯿﺮ ﺧﻮﺍﮨﯽ ﺗﮭﮯ

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﻓﺎﺗﺢ ﻗﺴﻄﻨﻄﻨﯿﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ
ﮐﻔﺮ ﭘﮧ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺗﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ
ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﮬﺎﻭﯾﮧ ، ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧؓ
ﺍﻟﭧ ﺩﯾﮯ ﺳﺒﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﺨﺖ ﺷﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﺑﺤﺮﯾﮧٔ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﻥؓﯼ ﮐﻮﻥ ﮨﻮ ﺗﯿﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ
ﺭﻭﻧﺪﯼ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﭼﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﻧﯽ
ﮐﺎﺗﺐ ِ ﻗﺮﺍٓﻥؓ ﺍﺭﺷﺪ ، ﺍﺑﻦِ ﺍﺑﯽ ﺳﻔﯿﺎﻥؓ ﺍﺭﺷﺪ
ﻟﺮﺯﺍﮞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺒﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﯽ ﺗﮭﮯ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽؓ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ؓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ

✍: فنا فی الصحابہ جناب مفتی سعید ارشد الحسینی صاحب

Comments

Popular posts from this blog

یہ دنیا اہلِ دنیا کو بسی معلوم ہوتی ہےنظر والوں کو یہ اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہےیہ کس نے کردیا سب دوستوں سے مجھ کو بیگانہمجھے اب دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی ہےطلب کرتے ہو دادِ حسن تم، پھر وہ بھی غیروں سے!مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہےمیں رونا اپنا روتا ہوں تو وہ ہنس ہنس کے سنتے ہیںانہیں دل کی لگی، اک دل لگی معلوم ہوتی ہےائےموج حوادث دےانکوبھی دوچارتھپیڑے ہلکےسےکچھ لوگ ابھی تک ساحل پرطوفاں کانظارہ کرتےہیںنہ جائیں میری اس خندہ لبی پر دیکھنے والےکہ لب پر زخم کے بھی تو ہنسی معلوم ہوتی ہےاگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میںیہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہےکچھ اہل ہستم کچھ اہل حشم میخانہ گرانے آئے تھےدہلیز کوچوم کے چھوڑدیا۔دیکھاکہ یہ پتھر بھاری ہےﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﻔﯿﻞ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖﻟﯿﮟ ﮔﮯﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﺟﯿﮯ ﺗﻮ ﺟﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺟﺎﻡ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﯽلینگےﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻋﯿﺎﮞ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﮨﻢ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽﮨﯿﮟﯾﺎ ﺑﺰﻡ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﮩﮑﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﻡ ﻟﯿﮟ گے

قاری احسان محسن دامت برکاتہم نے اپنے بچپن میں حکیم الاسلام قاری طیب رحمہ اللہ پر چند اشعار پڑھے تھے ان اشعار کو لکھ رہا تھا تو حضرت شیخ رح کی یاد میں بے ساختہ آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اشعار پیش خدمت ہےشیخِ زمن چلے ہو ہمیں چھوڑ کر کہاں ہر سمت ظلمتوں کی گھٹا ہے اب عیاںاف آج کتنے سالم و اسلم اداس ہیںغمگین اہلِ علم ہے آدام اداس ہیںسب اہلِ دیوبند مکرم اداس ہیںجنّ و ملک اداس ہے آدام اداس ہیںآنسوں بہا رہے ہیں زمین اور آسماںاے شیخ آج تم ہی فصیح اللسان تھےاخلاق کا نمونہ تھے شیریں بیان تھےتم مشفق و شفیق بڑے مہربان تھےہر شخص خاص و عام تیرے قدر دان تھےاب ہند میں نظیر تمہاری بھلا کہاں کشتئ دیں کا آپ کو کیا ناخدا کہے ہادی کہے ہم آپ کو یا رہنما کہےشمِّ امم کہے یا امام ہدیٰ کہے محسن کہے کریم تمہیں یا پیشوا کہےہر غنچۂ چمن میں ہے تمہارا ہی مدح خواں تم قاسم العلوم کے ایک نورِ عین تھے اشرف علی کے قلبِ مبارک کی چین تھےتمہیں تو ایک نور نگاہ حسین تھے ایک صف میں عالموں کے بین بین تھےتھا ناز بزرگوں کو تمہیں پر تو بے گماہے مضمحل ہمارا یہ دارلعلوم آج مسلح کہے کہ آج یہ دارلعلوم آج ہے منتظر تمہارا یہ دارلعلوم آج روشن کرو خدارا یہ دارلعلوم آج غنچۂ ہیں خو فشاں لب گل پر بھی ہیں فغاںجب آپ تھے چمن میں چمن پر شباب تھابے مثل بے نظیر بڑا لاجواب تھاگلشن میں رنگ و بو بڑا بے حساب تھاہر شخص فیض علم سے فیضیاب تھاخوش رنگ باغِ علم تھا تجھ سے تھا باغباںکیوں میکدہ آج وہ محفل سجی نہیںرندوں کی دھوم دھام بھلا مچی نہیں کیا مے تیری صراحی میں ساقی بچی نہیں یا مۓ شرابیوں کے دلوں میں رچی نہیں سب کچھ وہی ہے مگر آج وہ نہیں یہاں اے شیخ آج کذب و سیاست کا دور ہے کینہ حسد کا بغض و عداوت کا دور ہےفتنوں فریب مکر و بغاوت کا دور ہے انسانیت کی آج اہانت کا دور ہے برقِ تپاں کی زد میں ہے آج اپنا گلستاںطیب کا کاش آج چمن میں ظہور ہو ورنہ بمثل شیخ کوئی ذی شعور ہو پھر عطا چمن کو وہی رنگ و نور ہو یہ التجا قبول خدایا ضرور ہو دستِ دعا اٹھاتا ہوں اے مالکِ جہاںمحسن کی یہ دعا ہے الہی خبیر سے جو بھی میری زبان پہ نکلے ضمیر سے عقبہ میں یہ قریب ہو شیخ کبیر سے پھر حضرت ِرسول کہے مجھ فقیر سے خدام شیخ ہم ہیں تمہارے ہی قدردان

‎صحابہؓ ‏عظیم ‏ہیں ‏