گوشہ تنہائی
غزل
عشرت سےمجھےکام نہ دنیائےطرب سے
دیکھاہےنہاں خانہ دل آنکھ نےجب سے
نزدیک وہ اتنےتھے کہ بس مل گئے دل میں
تھاگرمِ سفرجنکےلیئےجانے میں کب سے
گرجنبشِ مژگاں کاکرشمہ ہےیہ دنیا
کیادھوم مچےگی تری اک جنبشِ لب سے
ائےظلمتِ حالات سےجی چھوڑنےوالو
پَوپھٹتی ہےہرروز اسی سینئہ شب سے
خوشیوں کےمقدرمیں ہےصدموں کی رفاقت
کانٹےیہ صدادیتےہیں پھولوں کےعقب سے
اللہ رےچہرےپہ یہ اعجازِمحبت
رنگ اورنکھرآتاہےکچھ رنگ و تعب سے
دو گام چلےتھےکہ نظرآگئی منزل
مرکب کوئی بہترنہ ملاترکِ طلب سے
پل بھرمیں وہ افسانہْ دل کہہ گئی آنکھیں
برسوں میں بھی جس کو نہ سناپاؤں میں لب سے
ائےصبح کو تنویرِ شفق دیکھنےوالوں
پھوٹاہےیہ رنگ اصل میں قربانئی شب سے
کیاکم ہےیہ اعزازکہ اُس بزم میں آسی
ہےذکرمرا ظالم و ناداں کے لقب
سے
کلام ۔ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب
انتخاب نویدالرحمٰن ابراری
Comments
Post a Comment