میرے مولامیں نےتجھے دیکھاہے
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
قرآن کے پاروں میں
آقا کے اشاروں میں
ایماں کے سواروں میں
معصوم پیاروں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
صدیق کی شفقت میں
فاروق کی ہیبت میں
عثمان کی عفّت میں
حیدر کی شجاعت میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
احمد کی درایت میں
مالک کی روایت میں
سفیان کی ثقاہت میں
نعمان کی فقاہت میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
ماثور دعاؤں میں
منشور ثناؤں میں
مامون ہواؤں میں
مسحور فضاؤں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
خورشید کے تاروں میں
راتوں کے ستاروں میں
آنکھوں کے خماروں میں
یاروں کے نظاروں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
برکھا کی پھواروں میں
ساون کی بہاروں میں
پودوں کی قطاروں میں
کوئل کی پکاروں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھاہے
ہر قطرہ باراں میں
ہر ذرہ تاباں میں
ہر برگ گلستاں میں
ہر روئے درخشاں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
گلزار میں خاروں میں
کوہسار غاروں میں
گنبد میں میناروں میں
خلوت میں ہزاروں میں
میں نے تجھے دیکھا ہے
میں نے تجھے دیکھا ہے
محفل کے چراغوں میں
انگور کے باغوں میں
سرشار دماغوں میں
ہر قلب کے داغوں میں
میں نےمیں تجھے دیکھا ہے
میں نے تجھے دیکھا ہے
سینہ کے پہاڑوں میں
چینا کے اکھاڑوں میں
قینہ کے بگاڑوں میں
نینا کے بچاھڑوں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
پر جوش شرابوں میں
پرسوز کبابوں میں
پر رنگ گلابوں میں
پرکیف حبابوں میں
میرے مولا میں نے تجھے دیکھا ہے
ہر لحن حجازی میں
ہر نقش مجازی میں
ہر حسن طرازی میں
ہر عشقِ نوازی میں
میں نے تجھے دیکھا ہے
میں نے تجھے دیکھا ہےدل سوز نگاہوں میں
دل سوز کراہوں میں
بے تاب تباہوں میں
مہجور کی آهوں میں
میں نے تجھے دیکھا ہے
میں نے تجھے دیکھا ہےصحرا کے غزالوں میں
دریا کے اچھالوں میں
بطحا کے نرالوں میں
طیبہ کے اجالوں میں
شاعر نامعلوم
انتخاب نویدالرحمٰن ابراری
Comments
Post a Comment