الیکشن ہےمداری آرہےہیں
(الیکشن ہے مداری آرہے ہیں )
-------------------------------------------------------------------
اہنسا کے پجاری آرہے ہیں
پرندو لو شکاری آرہے ہیں
وہی جو کل تلک غم دےرہے تھے
برائے غم گساری آرہے ہیں
ہرے ، نیلے ، گلابی ، زعفرانی
کرو مردم شماری آرہے ہیں
درندوں کو ابھی فرصت کہاں ہے
درندوں کے حواری آرہے ہیں
کسی کی ڈگڈگی نفرت فشاں ہے
کئی بس واری واری آرہے ہیں
سروں پر پوٹلی وعدوں کی رکھے
وہ گھر گھر باری باری آرہے ہیں
لئے ہاتھوں میں کشکول گدائی
یہ ووٹوں کے بھکاری آرہے ہیں
ہیں مہنگی گاڑیاں پر پا پیادہ
دکھانے خاکساری آرہے ہیں
شاعرمولاناسرفراز بزمی صاحب
سوائی مادھوپور راجستھان
انڈیا
Comments
Post a Comment