نظر والوں کو یہ اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے یہ کس نے کردیا سب دوستوں سے مجھ کو بیگانہ مجھے اب دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی ہے طلب کرتے ہو دادِ حسن تم، پھر وہ بھی غیروں سے !مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے میں رونا اپنا روتا ہوں تو وہ ہنس ہنس کے سنتے ہیں انہیں دل کی لگی، اک دل لگی معلوم ہوتی ہے ائےموج حوادث دےانکوبھی دوچارتھپیڑے ہلکےسے کچھ لوگ ابھی تک ساحل پرطوفاں کانظارہ کرتےہیں نہ جائیں میری اس خندہ لبی پر دیکھنے والے کہ لب پر زخم کے بھی تو ہنسی معلوم ہوتی ہے اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے کچھ اہل ہستم کچھ اہل حشم میخانہ گرانے آئے تھے دہلیز کوچوم کے چھوڑدیا۔دیکھاکہ یہ پتھر بھاری ہے ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﻔﯿﻞ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ دیئے ﺗﻮ ﺟﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺟﺎﻡ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﯽلینگے ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻋﯿﺎﮞ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﮨﻢ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﺰﻡ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﮩﮑﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﻡ ﻟﯿﮟ گے
Comments
Post a Comment