نظر والوں کو یہ اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے یہ کس نے کردیا سب دوستوں سے مجھ کو بیگانہ مجھے اب دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی ہے طلب کرتے ہو دادِ حسن تم، پھر وہ بھی غیروں سے !مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے میں رونا اپنا روتا ہوں تو وہ ہنس ہنس کے سنتے ہیں انہیں دل کی لگی، اک دل لگی معلوم ہوتی ہے ائےموج حوادث دےانکوبھی دوچارتھپیڑے ہلکےسے کچھ لوگ ابھی تک ساحل پرطوفاں کانظارہ کرتےہیں نہ جائیں میری اس خندہ لبی پر دیکھنے والے کہ لب پر زخم کے بھی تو ہنسی معلوم ہوتی ہے اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے کچھ اہل ہستم کچھ اہل حشم میخانہ گرانے آئے تھے دہلیز کوچوم کے چھوڑدیا۔دیکھاکہ یہ پتھر بھاری ہے ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﻔﯿﻞ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ دیئے ﺗﻮ ﺟﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺟﺎﻡ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﯽلینگے ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻋﯿﺎﮞ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﮨﻢ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﺰﻡ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﮩﮑﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﻡ ﻟﯿﮟ گے
قاری احسان محسن دامت برکاتہم نے اپنے بچپن میں حکیم الاسلام قاری طیب رحمہ اللہ پر چند اشعار پڑھے تھے ان اشعار کو لکھ رہا تھا تو حضرت شیخ رح کی یاد میں بے ساختہ آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اشعار پیش خدمت ہےشیخِ زمن چلے ہو ہمیں چھوڑ کر کہاں ہر سمت ظلمتوں کی گھٹا ہے اب عیاںاف آج کتنے سالم و اسلم اداس ہیںغمگین اہلِ علم ہے آدام اداس ہیںسب اہلِ دیوبند مکرم اداس ہیںجنّ و ملک اداس ہے آدام اداس ہیںآنسوں بہا رہے ہیں زمین اور آسماںاے شیخ آج تم ہی فصیح اللسان تھےاخلاق کا نمونہ تھے شیریں بیان تھےتم مشفق و شفیق بڑے مہربان تھےہر شخص خاص و عام تیرے قدر دان تھےاب ہند میں نظیر تمہاری بھلا کہاں کشتئ دیں کا آپ کو کیا ناخدا کہے ہادی کہے ہم آپ کو یا رہنما کہےشمِّ امم کہے یا امام ہدیٰ کہے محسن کہے کریم تمہیں یا پیشوا کہےہر غنچۂ چمن میں ہے تمہارا ہی مدح خواں تم قاسم العلوم کے ایک نورِ عین تھے اشرف علی کے قلبِ مبارک کی چین تھےتمہیں تو ایک نور نگاہ حسین تھے ایک صف میں عالموں کے بین بین تھےتھا ناز بزرگوں کو تمہیں پر تو بے گماہے مضمحل ہمارا یہ دارلعلوم آج مسلح کہے کہ آج یہ دارلعلوم آج ہے من...
#صحابہ_عظیم_ہیں جنگِ بَدَر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں عزمِ سَفَر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں مکہ میں مبلغ ہیں مدینے میں مجاہد فِکر و نظر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں صدیاں گزر چکی ہیں مگر بحرِ نیل پہ خط کے اثر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں فاقے ہیں، غریبی ہے، مگر عِلم کی چاہت اَرقَم کے گھر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں مَکہ کی تپتی ریت پہ وردِ اَحَد اَحَد طرزِ صَبَر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں گھوڑے کی پِیٹھ پہ، کبھی جائے نماز پہ شام و سحر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں جنگِ احد ہے، بُوڑھا ہے، لیکن بہشت کے اُس منتظر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں میدانِ کربلا ہے وہ زہرہ و علی کے لَختِ جِگَر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں وہ کِس کی رہبری میں تلاشِ خدا میں تھے اُس راہ بَر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں محشر ہو، حکمِ رب ہو، مَلائک مجھے کہیں ہُدہُد عمر کو دیکھ صحابہ عظیم ہیں ✍: ہُدہد
Comments
Post a Comment